25 فروری 2013 - 20:30

شام کے صدر بشار اسد نے ايک بار پھر کہا ہے کہ غير ملکي حمايت يافتہ دہشتگرد گروپ ان کے ملک ميں بدامني کے ذمہ دار ہيں- يہ بات انہوں نے جرمن ٹي وي کو ديئے گئے اپنے ايک انٹرويو کے دوران کہي-

ابنا: صدر بشار اسد کا کہنا تھا کہ غير ملکي حمايت يافتہ مسلح گروپ ملک ميں دوسال سے جاري بدامني کے ذمہ دار ہيں اور فوج صرف دہشتگردانہ حملوں کا جواب دے رہي ہے-  انہوں نے کہا کہ شام کي حکومت نے کشيدگي شروع نہيں کي بلکہ دہشتگرد گروپ ہيں جو شامي شہريوں کو قتل  اور ملک کے بنيادي ڈھانچے کو تباہ کر رہے ہيں-
صدر بشار اسد نے ايک بار پھر اس قياس آرائيوں کو سختي کے ساتھ مسترد کرديا کہ انکي حکومت مخالفين کے خلاف کيميائي ہتھيار استعمال کرنے کا ارادہ رکھتي ہے- انہوں نے کہا کہ اس قسم کا پروپيگنڈا محض شام پر زيادہ سے زيادہ دباؤ ڈالنے کي غرض سے کيا جارہا ہے-
صدر اسد نے ايک بار پھر يہ بات زور ديکر کہي کہ ملک کے عوام ہي انکے مستبقل کے بارے ميں کوئي فيصلہ کرنے کا حق رکھتے ہيں-
دوسري جانب اطلاعات ہيں کہ القاعدہ کي ذيلي تنظيم النصرہ نے فروري کے مہينے ميں صوبہ حما ميں ہونے والے خوني حملے کي ذمہ داري قبول کرلي ہے- انٹر نيٹ کے ذريعے جاري ہونے والے ايک بيان ميں النصرہ گروپ نے چھے فروري دوہزار تيرہ کو تل براک شہر ميں کيا  جانے والے قتل عام اس کے حاميوں نے کيا تھا- واضح رہے کہ اس خوني واقعے ميں دہشتگردوں نے ايک بس ميں سوار ساٹھ عام شہريوں کو بڑي بے دردي کے ساتھ گوليان مار کر قتل کرديا تھا- مرنے والوں ميں خواتين اور کم سن بچے بھي شامل تھے_

.......

/169